اسرائیلی وزیراعظم کا دورۂ امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتا تناؤ
ایران کا ایڈوانس ہوتا نیوکلیئر پروگرام، ابراہیم رئیسی کا
عہد صدارت، اسرائیل میں نئے وزیر اعظم کا انتخاب، غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملے،
فلسطین میں اسرائیل مخالف مظاہرے اور افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا، یہ وہ
صورت حال ہے جس میں ایک اہم عالمی ملاقات ہونے جارہی ہے جو نہ صرف اسرائیل اور ایران
کے درمیان جاری چپقلش کو بڑھائے گی بلکہ اسے ایک نیا رنگ بھی دے سکتی ہے اور ساتھ
ہی یہ ملاقات اسرائیل اور امریکہ کے مستقبل کے تعلقات کو بھی ظاہر کرے گی۔
![]() |
| US President Joe Biden and Israeli PM Bennett |
یہ ملاقات ہے امریکی صدر جوء بائیڈن اور اسرائیل کے نئے وزیراعظم
نفتالی بینٹ کے درمیان، واضح رہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی باضابطہ
ملاقات ہے اور توقع کی جارہی ہے اس کا اہم موضوع ایران ہی رہے گا کیونکہ حالیہ
دنوں میں اسرائیل اور ایران کے تعلقات اس وقت شدید کشیدہ ہو گئے جب ایک اسرائیلی
بحری جہاز پر حملہ ہوا تھا اور اسرائیل نے اس کا الزام ایران پر لگایا تھا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے
دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل میڈیا ذرائع کو بتایا کہ صدر جوء بائیڈن اسرائیل
کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کو بتائیں گے کہ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے
والی عالمی ڈیل کو سفارت کاری کے ذریعے بحال کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور وہ اس حوالے
سے اسرائیل کی حمایت کے خواہشمند ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینٹ
ایران نیوکلئیر ڈیل بحالی کے ایک بڑے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔
دوسری طرف اقوام متحدہ اور امریکی اداروں کی حالیہ رپورٹس
کے مطابق جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا
اعلان کیا ہے، ایران کا ایٹمی پروگرام ڈرامائی طور پر ایک بند باکس سے باہر نکل کر
ہوا میں اڑ رہا ہے اور یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی رفتار میں اضافہ بھی کر رہا ہے
جو کہ ملاقات کرنے والے دونوں ہی رہنماؤں کے پریشان کن ہے لیکن اس پر دونوں کی
آراء ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
صدر بائیڈن، جنہوں نے ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والے ایٹمی
معاہدے پر دستخط ہوتے وقت باراک اوباما کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں،
نے معاہدے کی بحالی کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں، لیکن اس سال کے شروع میں ویانا
میں ایران کے ساتھ معاہدے کی بحالی پر مذاکرات کے چھ دور ہوئے لیکن یہ مذاکرات جے
سی پی او اے کو بحال کرنے میں ناکام رہے۔ اور پھر اسی دوران ایران میں صدارتی
انتخابات ہوئے اور ایٹمی معاہدہ کرنے والے ایرانی صدر حسن روحانی کا دور ختم ہوگیا۔
اب ان کی جگہ ابراہیم رئیسی ایران کے نئے صدر منتخب ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ایران
کے عالمی طاقتوں سے مذاکرات بحال نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ نفتالی بینیٹ کے پیشرو، سابق اسرائیلی وزیراعظم
بنیامین نیتن یاہو معاہدے کے سخت مخالف تھے اور جب ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ ختم کیا
تو وہ سب سے زیادہ خوش تھے۔ موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ سمیت تمام طاقتوں
پر واضح کیا ہے کہ ان کے ملک کا موقف تبدیل نہیں ہوا اور وہ کسی صورت بھی نیوکلیئر
معاہدے کی بحالی کو قبول نہیں کریں گے۔
نفتالی بینیٹ نے اس ہفتے کے شروع میں امریکی اخبار نیو یارک
ٹائمز کو بتایا تھا کہ وہ صدر بائیڈن کو ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نئی حکمت
عملی پیش کریں گے، جس میں بعض عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے اتحاد کو مضبوط کرنا
اور ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے خفیہ حملے جاری رکھنا شامل ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے کئی مرتبہ ایران کے ایٹمی پروگرام
پر سائبر حملے کیے ہیں اور بقول ایران کے اسی وجہ سے ان کا نیوکلیئر پروگرام سست
روی کا شکار ہوا۔ اس کے علاوہ معروف ایرانی سائنسدان محسن فخری ذادے کے قتل میں بھی
اسرائیل کے ملوث ہونے کے اشارے ملے تھے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے گزشتہ سال متحدہ عرب امارات ، بحرین
، سوڈان اور مراکش کے ساتھ نارملائزیشن کے معاہدوں پر دستخط کیے جس کا بنیادی مقصد
خطے میں ایرانی مفادات کو نقصان پہنچانا تھا کیونکہ سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک
کو ایران سے خطرہ ہے۔
نفتالی بینٹ اور صدر بائیڈن کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات
کیا رنگ لاتی ہے، اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن ایک بات تو طے
ہے کہ امریکہ، اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرے گا اور چونکہ دونوں کا مشترکہ دشمن ایران
ہے، جس میں عرب ممالک بھی ان کے ساتھ ہیں، تو ایران کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔
نئے ایرانی صدر کو قدامت پسند اور مذہبی حلقوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اس لیے عین
ممکن ہے وہ سب کچھ کبھی نہ ہو جس کی صدر بائیڈن کوشش کر رہے ہیں کیونکہ کچھ بھی ہو
ابراہیم رئیسی کبھی بھی حسن روحانی نہیں بن سکتے۔

0 Comments