افغان بحران اور امریکی نائب صدر کمالا ہیرس کا دورۂ جنوب مشرقی ایشیا
امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس اپنے دوسرے غیر ملکی دورے اور پہلے جنوب مشرقی ایشیا کے دورے میں اپنے 20 رکنی وفد کے ہمراہ سنگاپور پہنچی ہیں جہاں وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خدشات کو کم کرنے اور اس خطے کے لیے امریکہ کی سیاسی حمایت کے عزم کی یقین دہانی کروائیں گی۔ اس ضمن میں تجارتی معاملات پر بھی بات ہوگی جس میں عالمی سطح پر کمپیوٹر 'چپ' کی کمی مرکزی نقطہ ہو گی کیونکہ سنگاپور نے 'چپ' بنانے کی پیداوار بڑھانے کی بات کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ 1975 کے بعد کسی بھی امریکی نائب کا اس خطے کا پہلا دورہ ہے۔ اسی لیے موجودہ حالات کے تناظر میں اسے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
لیکن عالمی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر
کو افغانستان سے افراتفری کے حالات میں فوجی انخلا اور طالبان کے ملک پر قبضے کے
بعد خطے کے امریکی انحصار پر سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور خاص طور پر اس وقت
جب چین ایک بڑا حریف بن چکا ہے اور امریکی مفادات کیلئے اس خطے میں ہی نہیں دنیا
بھر میں ایک بڑا خطرہ ہے۔ اور شاید اسی تناظر میں رواں سال جولائی میں امریکی وزیر
دفاع لائڈ آسٹن بھی اس خطے کا دورہ کر چکے ہیں لیکن اس وقت افغانستان کا بحران
شروع نہیں ہوا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے
بتایا کہ اس دورے سے ظاہر ہوگا کہ واشنگٹن جنوب مشرقی ایشیا کیلئے ٹھوس اور مثبت
پالیسی رکھتا ہے۔ جبکہ اے ایف پی نے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی
نائب صدر "پورے دورے میں یہ واضح کردیں گی کہ ہم خطے کے لیے پائیدار عزم
رکھتے ہیں"
تاہم افغانستان میں جاری بحران کے تناظر میں ان عزائم کا
وزن مسلسل کم ہو رہا ہے کیونکہ یہ امر اتحادی ممالک کیلئے انتہائی قابلِ تشویش ہے
کہ ایک لمبی جنگ کے بعد جب ایک دن امریکہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب افغانستان زیادہ
اہم نہیں رہا تو یہ صورت حال ان ممالک کیلئے پریشان کن ہے جو امریکہ پر انحصار
کرتے ہیں کیونکہ آنے والے عرصے میں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے اور اس سے
امریکی حریف مثلاً چین اور روس بھر پور فائدہ بھی اٹھاتے نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان سے افراتفری کے عالم میں امریکی افواج کے انخلا نے ویت نام سے امریکہ کے 1975 کے انخلا کی یاد کو تازہ کر دیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بھرپور بحث جاری ہے لیکن اب قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ ویت نام امریکی اتحادی ہے کیونکہ دونوں کیلئے مشترکہ خطرہ اب چین ہے۔ کیونکہ ویتنام بحیرہ جنوبی چین میں چین کے سمندری حدود کے دعوؤں کا سخت مخالف رہا ہے اور اسے اس حوالے سے امریکی مدد بھی حاصل ہے۔ 56 سالہ نائب صدر کمالا ہیرس منگل کے روز ویت نام کا دورہ کریں گی اور وہ ویت نام کا دورہ کرنے والی پہلی امریکی نائب صدر ہوں گی۔
10 ممالک پر مشتمل یہ خطہ امریکہ اور چین کے درمیان اثر
و رسوخ کے لیے ایک بڑا میدان جنگ بن چکا ہے اور واشنگٹن نے بیجنگ کے پورے جنوبی بحیرہ
چین کے دعوؤں پر بار بار تنقید کی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات شدید کشیدہ
ہو گئے ہیں جس میں تجارتی معاملات سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ کرونا وائرس کو لیکر
بھی معاملات خراب ہیں۔ دوسری طرف خطے میں امریکی اتحادی ممالک مثلاً برونائی ،
ملائیشیا ، فلپائن اور ویت نام سمیت تائیوان نے بھی جنوبی سمندر میں بیجنگ کے
تجارتی راستوں پر دعوے کر رکھے ہیں جو کہ چین کیلئے پریشان کن ہیں۔ اور ساتھ ہی
ہانگ گانگ اور انسانی حقوق بھی دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی اہم وجوہات ہیں۔
ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوگا امریکہ اپنی
طاقت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے لیکن معاملات کسی بھی طور سنبھل نہیں پا رہے اور چین
مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ اور اسی تناظر میں اگر چین افغانستان میں طالبان کی حکومت
کو سب سے پہلے تسلیم کر لیتا ہے تو یہ ایک واضح اعلان ہوگا کہ چین کو امریکہ کی
کوئی پروا نہیں۔
0 Comments