خان بادشاہ ! کیا گھبرانے کی اجازت ہے؟
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک ملک کے تقریباً خوشحال عوام
کو اپنا بادشاہ کچھ ناپسند سا ہونے لگا۔ اس ناپسندیدگی میں زمینی خداؤں نے بھی اسے
بدنام کرنے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور عوام نے موقع غنیمت جانا اور نئے
بادشاہ کو آزمانے فیصلہ کرلیا۔ لہٰذا نئے متوقع بادشاہ خان نے اپنے جلسے، جلوسوں میں
یہ نعرے لگانے شروع کردیے کہ آپ کا اتنا روپیہ باہر پڑا ہے، آپ کا اتنا ٹیکس چوری
ہوتا ہے اور جیسے ہی یہ چور گئے تو وہ روپیہ واپس آجائے گا اور پھر عوام ہاتھ پر
ہاتھ رکھے گھر بیٹھے مالامال ہوجائیں گے۔ غریب اور امیر کا فرق مٹ جائے گا۔ امن کی
گنگا بہے گی۔ علم و فن ہر ایک کی دسترس میں ہوگا بلکہ باہر کے ملکوں سے لوگ آپ کی
خدمت کرنے یہاں پر آئیں گے۔ بس پھر کیا تھا؟
![]() |
| Imran Khan, Prime Minister of Pakistan |
چونکہ اس ملک میں جمہوریت کی کشتی چلتی تھی اور کشتی میں
صندوق رکھ دیے جاتے تھے اور وہ کشتیاں ہر شہر اور گاؤں میں پھرتی تھیں اور لوگ اپنی
پرچیاں اس میں ڈالتے رہتے تھے۔ لہٰذا اس ملک کے ناسمجھ اور کم فہم عوام نے اس
بادشاہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے جھولیاں بھر بھر ووٹوں سے نوازا اور جہاں
صندوقوں میں ووٹ کم پڑے، وہاں پر زمینی خداؤں نے انہیں بھر دیا اور جب ووٹوں کی
گنتی ہورہی تھی تو اچانک رات کو اس ملک میں ایک طوفان آگیا اور اس طوفان نے تمام
راستے بند کردیے۔ صبح جب لوگوں کو پتا چلا تو اس نئے بادشاہ کے 20 بھرے ہوئے ڈبے
120 ہوگئے۔
پنجاب حکومت نے عوامی جگہوں پر ٹک ٹاکرز کے داخلے پر پابندی کیوں عائد کی؟
جیسے ہی دن کا اجالا پھیلا تو پرانے بادشاہ کو عہدے سے ہٹا
دیا گیا اور نئے بادشاہ جس کا نام ’’بادشاہ خان‘‘ تھا، نے حلف اٹھالیا۔ اس نئے
بادشاہ کو مسلط کرنے کےلیے زمینی خداؤں نے ہرجگہ پر اپنے آہنی گرز استعمال کیے۔ اب
زمینی خداؤں سے کون لڑے، کسی کی مجال کہ ان کا نام بھی لے سکے۔ لہٰذا بادشاہ خان
تمام آہنی ہاتھوں کی آشیرباد کے ساتھ نہ صرف مسلط ہوا بلکہ ظلم وستم شروع کردیا۔
عوام پر زندگی تنگ ہونا شروع ہوگئی تو عوام کی آنکھیں کھلیں اور اس نے پرانے
بادشاہ کو لانے کےلیے سوچنا شروع کردیا۔
لیکن آہنی ہاتھوں والے زمینی خداؤں نے خان کو ستون فراہم کیے۔
عوام کے سامنے جھوٹ بولنے اور جھوٹ کو سچ کرنے کےلیے مغرب و مشرق سے ایسے ایسے مشیروں
سے نوازا کہ وہ جھوٹ کو ایک فرض عین سمجھ کر بولتے ہیں اور جھوٹ کے ایسے ماہر کہ
ان کا جھوٹ سن کر گوئبلز بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھاگ جائے کہ میں تو ایسے ہی
بدنام ہوگیا تھا۔
میرا جسم، میری مرضی: پاکستان میں سعی لاحاصل کیوں؟
اس ملک کا ہر ادارہ تباہ ہوگیا یا کردیا گيا۔ صرف ان لوگوں
کی عزت تھی جو مالدار تھے یا رشوت دے کر اپنے کام نکال لیتے۔ ہر بازار میں لوگوں
کے اپنے دام، نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی روکنے والا۔ لوگ گھر سے اشیائے
ضروریہ لینے نکلتے کہ کل ہم نے 100 روپے کی لی تھی تو آج بھی 100 کی ہی ملے گی، لیکن
بازار جاکر پتہ چلتا ہے کہ وہ کل کی بات تھی، آج اسی چیز کے دام 150 ہوگئے ہیں۔
بادشاہ خان نے ہر امیر کو امیر تر ہونے کےلیے تمام تر وسائل
مہیا کیے اور غریب عوام کو پائی پائی کا محتاج کرنے کےلیے بھی اپنے غلام چھوڑ دیے،
تاکہ اس بیکار اور ملک پر بوجھ بنے ہوئے طبقے سے ہر صورت میں جان چھڑائی جائے۔
مہنگائی سے تنگ غریب عوام پھر بھی زندہ رہے تو انہیں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ
مقابلوں میں مروانے کےلیے بھی منصوبہ بندی
کی گئی۔
مینار پاکستان واقعہ: خوش قسمتی کی بد قسمتی؟
ملک کے قاضیوں اور منصفوں کے منہ زمینوں اور جاگیروں سے بھردیے گئے تاکہ وہ بادشاہ خان کے خلاف کوئی فیصلہ نہ سنا سکیں اور جو کوئی مخالفت کی کوشش کرتا، اس پر سانس بند ہونے کی بیماری کا حملہ کرکے جان چھڑوالی جاتی۔ اب اس ملک کے ہر چوراہے پر غریب اور بھوکے ننگے عوام مظاہرے کرنے لگے اور اپنی ناشکری کی سزا بھگتنے کے ساتھ ہر ایک کی ایک ہی فریاد تھی۔ ’’رحم بادشاہ خان… رحم بادشاہ خان‘‘

0 Comments