پبلک پارکس میں ٹک ٹاکرز کے داخلے پر پابندی: دیر آید درست آید؟

بالآخر ادارے خواب غفلت سے جاگتے دکھائی دے رہے ہیں اور 'ایفکٹ' کی بجائے 'کاز' کو دبانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اپنے ایک آج کے فیصلے میں پبلک پارکس میں ٹک ٹاکرز کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی پنجاب نے کہا ہے کہ ٹک ٹاکرز کو پارکوں میں داخلے سے پہلے اجازت نامہ جمع کرانا ‏ہو گا اور باضابطہ اجازت نامے کے بعد انہیں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کی اجازت ہو گی۔ لیکن یاد رہے کہ فیملیز پر کوئی پابندیاں عائد نہیں کی جا رہیں۔

یہی وہ ایک بنیادی نکتہ تھا جسے اگر پہلے سمجھ لیا جاتا تو نہ خواتین کے پبلک مقامات پر داخلے پر پابندی کی بات ہوتی اور نہ چند لوگوں کے ردعمل کو پرکھتے ہوئے مردوں کو گالیاں دی جاتیں۔ اگر یہ سمجھ لیا جاتا کہ ایسے واقعات معاشرتی سطح پر ہوتے ہیں اور ان کا جنس سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا تو شاید یہ اقدام پہلے ہی اٹھا لیا جاتا اور سب کچھ سوشل میڈیا کی زینت نہ بنتا جو بد قسمتی سے بنا۔

ہماری آج کی جذباتی سوشل میڈیا نسل، چاہے وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، اور میڈیا پرسنز کو، چاہے ان کا شعبہ کچھ بھی ہو، سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹک ٹاکرز کا مطلب خواتین نہیں ہوتا اور نہ ہی خواتین کا مطلب ٹک ٹاکرز ہوتا ہے۔ ایک ٹک ٹاکر کا غلط عمل نہ تو معاشرے کی خواتین پر ڈالا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایک ٹک ٹاکر کی وجہ سے معاشرے کے مردوں کو برا کہا جا سکتا ہے۔ ٹک ٹاک ایک معاشرتی برائی ہے جس میں مرد بھی حصہ لیتے ہیں اور خواتین بھی۔ اور تمام چیزوں کو اسی پیمانے میں رکھ کر ماپنے کی ضرورت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے جذبات میں آکر بیٹیاں نہ ہونے کو بھی اپنی خوش قسمتی قرار دیا جو کہ صحت مند رجحان نہیں۔

ہمارے معاشرے میں آج بھی اعلیٰ معاشرتی روایات پائی جاتی ہیں۔ مرد، خواتین کی عزت کرتے ہیں اور خواتین، مردوں کی عزت کرتی ہیں۔ آج بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد نوجوان، خواتین کیلئے سیٹ خالی کردیتے ہیں۔ اور بینکوں میں لگی بھیڑ میں بھی خواتین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مرد نوجوان لمبے انتظار کے بعد چالان فارم واپس لیتے ہیں اور خواتین چند منٹ بعد ہی وصول کر لیتی ہیں۔ اور ایسے بہت سے واقعات تو آپ لوگوں کے ساتھ خود پیش آئے ہوں گے۔

مینار پاکستان پر ہونے والا واقع یقیناً قابل تحسین نہیں لیکن اسے جنس سے جوڑ دینا ایک ظلم ہے، اور کسی ایک طبقے کو اس کا زمہ دار ٹھہرانا سراسر نہ انصافی ہے۔ اسے ایک معاشرتی برائی سمجھنا چاہیے اور برے لوگ ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں اور وہ مرد بھی ہو سکتے ہیں اور خواتین بھی۔ اور ملکی اداروں کو ان واقعات کی روک تھام کیلئے قائل کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات اٹھانے پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کرنی چاہیے کیونکہ بالآخر یہ سب کچھ اداروں نے ہی تو کرنا ہے۔ لیکن کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی کھلوانے میں پیش پیش کون لوگ تھے؟

اس سوال کا جواب یقیناً آپ پر صورتحال مزید واضح کر دے گا۔