"میرا جسم، میری مرضی" : سعی لاحاصل؟

مینار پاکستان پر ہونے والے ایک ناخوشگوار واقعہ نے ہمارے معاشرے میں ایک مرتبہ پھر خواتین کے حقوق اور ان پر ہونے والے ظلم و زیادتی کے موضوعات کو چھیڑ دیا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا پر گرما گرمی جاری ہے تو دوسری طرف مین سٹریم میڈیا بھی اپنا پورا حصہ ڈال رہا ہے۔ اور اس بحث میں جہاں ایک طرف مردوں کے اجتماعی رویوں کوسا جارہا ہے تو دوسری طرف 'میرا جسم، میری مرضی' کی گردان کو ایک مرتبہ پھر پوری آب وتاب سے دہرایا جا رہا ہے۔ اس سب کا نتیجہ کیا نکلے گا اور نکلے گا بھی یا نہیں، تو اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن آج ہم لوہے کی طرح گرم 'میرا جسم، میری مرضی' کی گردان کو ایک نئے اور توجہی انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

'میرا جسم، میری مرضی' پر ہونے والی تمام گفتگو اور دلائل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جس میں جنسی تقسیم بھی شامل ہے یعنی معاشرے کے مرد اور معاشرے کی خواتین۔ ان کی گفتگو کا ایک وہ حصہ ہے جو بیان کرنے والے بتاتے ہیں اور یہ مرد بھی ہو سکتے اور خواتین بھی۔ اور ایک وہ حصہ ہے جو سمجھنے والے بتاتے ہیں اور اس میں مرد و خواتین برابر کے حصے دار ہیں۔

اگر پہلے حصے کی بات کریں تو بقول ایک خاتون کے "میں بحیثیت عورت اس حق کی شدت سے طلب گار ہوں کہ میرے جسم کو ریپ نا کیا جائے، میں اگر آپ کی بات نہیں مانتی تو اس کا خمیازہ مجھے اس صورت میں نہ بھگتنا پڑے کہ میرے جسم کو تیزاب سے جلا دیا جائے، میرا بھائی کسی عورت کے ساتھ غلط کرے تو اسکے بدلے میری زبردستی شادی میرے باپ کی عمر کے بڈھے سے نہ کردی جائے، مجھے صنفی امتیاز کا شکار بناتے ہوئے میرے بھائیوں کے مقابلے میں کمتر نا سمجھا جائے"

اب اگر دوسرے حصے کی بات کریں تو بقول ایک ایکٹوسٹ کے "یہ نعرہ ایک زومعنی مفہوم رکھتا ہے جو ہمارے معاشرے کی خاندانی روایات کے خلاف ہے اور اس سے معاشرے میں بڑھتی برائی کو مزید ہوا ملتی ہے اور نتیجتاً وہی کچھ ہوتا ہے جس کے جواب میں پھر اسی نعرے کو دہرایا جاتا ہے اور یہ سرکل چلتا رہتا ہے جس سے بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ مزید یہ کہ ہمارے اردو ادب میں جسم کا مطلب وہ نہیں لیا جاتا جو انگلش میں باڈی (Body) کا لیا جاتا ہے اور اسی نقطے کو سمجھنے کی ضرورت ہے"

اب ان دونوں آراء یا دلائل یا نظریات کو سامنے رکھیں تو معلوم ہو گا کہ وضاحت دونوں ہی کی درست ہو سکتی ہے اور دل کو لبھاتی بھی ہوگی


اور ہو سکتا ہے کہ ان کو قبولیت بھی مل جائے لیکن دونوں میں ہی ایک بنیادی خامی اور خلا موجود ہے اور وہ ہے ان دلائل کا ماخذ، آخر دونوں نے اپنی وضاحت کو اخذ کہاں سے کیا؟ بظاہر یہ بڑی سادہ سی بات ہو گی اور ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو احمقانہ بھی لگے لیکن اسی نقطے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک چیز (کوئی بھی واقعہ یا عمل) ہوتی اور ایک وہ جو ہم سمجھتے ہیں۔ اب ان دونوں میں فرق ہے اور نتائج کا انحصار ہر شخص کی صلاحیت پر منحصر ہے۔

کچھ لوگ کچھ نہیں سے بھی بہت کچھ اخذ کر سکتے ہیں اور کچھ بہت کچھ کو بھی کچھ نہیں سمجھتے اور مزید کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس میں مفادات کے عمل دخل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اب واپس آتے ہیں اسی نعرے پر جو اپنے اندر ایک مفہوم رکھتا ہے اور ایک وہ جو مفہوم بیان کیا جاتا ہے اور ایک وہ جو سمجھا جاتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کوئی بھی گروہ اپنا ماخذ بتانے کو تیار نہیں، وہ صرف اسی حصے کو اسی انداز میں بیان کرتا ہے جو اس کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور باقی سب کچھ نظر انداز کردیا جاتا ہے اور یہیں سے مسئلہ بگڑنا شروع ہو جاتا ہے جس کا مشاہدہ ہم ہر روز کرتے ہیں۔ اگر دونوں گروہوں کا بنیادی مقصد معاشرے کی اصلاح، ترقی اور بھلائی ہے تو ان وضاحتوں کے ماخذ بتانے میں کیا حرج ہے۔

"اگر دوسروں کیلئے وہ ضابطے ہیں جو کتابوں میں لکھے ہیں اور آپ کیلئے وہ جو آپ کے مفادات کا تحفظ کریں تو معذرت کے ساتھ آپ دونوں ہی معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں اور اسی ریس کو فروغ دے رہے ہیں جہاں اخلاقیات کی یا درست ہونے کی یا غلط ہونے کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔"

اگر دونوں گروہ خلوص سے اپنے ان ماخذوں کو بیان کریں جن سے یہ سب کچھ اخذ کیا گیا ہے تو عین ممکن ہے کہ وہاں اور بھی بہت کچھ موجود ہو جو ان اصطلاحوں سے بہت بہتر اور قابل عمل ہو کیونکہ کوئی بھی فلسفہ، مذہب یا نظریہ کسی ایک پہلو کا حل دے کر رکتا نہیں بلکہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور آخر کار پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

جب تک مکمل تصویر معاشرے کے سامنے نہیں آئے گی یہ سب چلتا رہے گا کیونکہ آدھا سچ پورے جھوٹ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ تو کیا اور بہت کچھ بھی 'سعی لاحاصل' قرار پائے گا۔