نواب اکبر بگٹی: قوم پرستی کا نمائندہ یا غدار؟ 

" بیماری، ایک پیر کے مکمل ناکارہ ہونے اور پیرانہ سالی کے باعث نواب بگٹی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ لوہے کی چھڑی اور دو افراد کے سہارے کے بغیر زیادہ دیر تک چل پھر سکتے۔ تین سہاروں کے ساتھ اگر ان کی تصویر میڈیا میں شائع ہوتی تو شاید یہ ان کی صحت کی کمزوری کی عکاسی کرتی، اس لیے انھوں نے فوٹو گرافر کو تصویر لینے سے پہلے اپنے پاس بلا کر ایک خاص بات کہی، ’او پشتون، میری تصویر اس طرح نہیں لینا جس سے دشمن یہ سمجھے کہ بگٹی کمزور ہو گیا ہے۔‘ "

بی بی سی اردو کے ایک نمائندے کے یہ الفاظ نواب اکبر بگٹی کی نہ صرف جسمانی صحت کو بیان کر رہے تھے بلکہ ان کی ذہنی کیفیت اور ممکنہ انجام کی عکاسی بھی کرتے تھے۔ انہیں اس بات کا تو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اکیلے زیادہ دیر ریاست سے نہیں لڑ سکتے۔ آج یا کل سیکیورٹی فورسز انہیں ڈھونڈ لیں گی اور انہیں مار دیا جائے گا۔ اب انہوں نے صرف یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ان کی موت کہاں ہو اور وہ شاید اس میں کامیاب بھی رہے۔

Nawab Akbar Bughti

آج سے ٹھیک 15 برس قبل ایک فوجی آپریشن میں مارے جانے والے نواب اکبر بگٹی بلوچستان میں قوم پرست مزاحمت کی آخری علامت تھے۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے نواب بگٹی کے لیے اپنے گھر میں بھی بہت زیادہ چلنا ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے سنہ 2005 کے اواخر میں اپنا گھر چھوڑا اور پہاڑوں کا رُخ کیا، اُس وقت ان کی عمر لگ بھگ 78 برس تھی۔

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ 

قوم پرست حلقوں کے مطابق قیام پاکستان سے لے کر جنرل مشرف کے اقتدار میں آنے سے قبل تک بلوچستان میں تین فوجی آپریشن ہوئے لیکن ان میں سے ڈیرہ بگٹی میں کوئی نہیں ہوا کیونکہ نواب بگٹی یا ان کے قبیلے کے لوگ ان کاروائیوں کا حصہ نہیں تھے جن کو اس وقت کی حکومتوں کی جانب سے بغاوت قرار دیا جاتا رہا۔

تو پھر وہ کیا وجوہات تھیں کہ مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈیرہ بگٹی میں بھی حالات خراب ہوئے اور وہاں بھی گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

مشرف حکومت کی جانب سے تین قبائلی سرداروں نواب خیر بخش مری، نواب بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل کو بدامنی کے حالات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت میگا پراجیکٹس شروع کر کے بلوچستان کو ترقی دینا چاہتی ہے جبکہ یہ سردار ترقی کے مخالف ہیں اس لیے وہ بدامنی پھیلا رہے ہیں تاکہ لوگ ترقی نہ کر سکیں اور اس طرح ان کی غلامی سے نہ نکل سکیں۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت اور چین کی توقعات اور خدشات کیا ہیں؟ 

سرکاری حکام کی جانب سے نواب بگٹی سمیت تینوں سرداروں پر ملک کے خلاف بغاوت اور اس کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگائے جاتے رہے۔

حکومتی الزامات کے برعکس بلوچستان کے قوم پرست حلقے حالات کی خرابی کا ذمہ دار مشرف کی فوجی حکومت اور ان کی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہوئے یہ کہتے رہے کہ حکومت بلوچستان کے ساحل اور وسائل پر قبضہ کر کے ان کو یہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے، جس پر لوگ ناراض ہیں۔

اب دونوں اطراف سے، ان حالات کے تناظر میں، کس کا مئوقف زیادہ درست ہے اس بارے میں تو کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی لیکن ایک بات طے ہے کہ جنرل مشرف، نواب اکبر بگٹی کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھنے لگے تھے۔ ان کے بقول ریاست اور حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے یہ ضروری تھا کہ شرپسند عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔

لیکن دوسری طرف بلوچستان کے قبائلی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے نواب اکبر بگٹی کا یہ مئوقف تھا کہ بلوچستان کے وسائل پر عام بلوچ عوام کا حق زیادہ ہے جسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے برعکس اس کا فائدہ غیر ملکیوں اور غیر بلوچوں کو دیا جا رہا ہے۔ اس لیے جب حکومت نے ان کی بات نہیں سنی تو انہوں نے ردعمل دینے کا فیصلہ کیا جس کا انجام ان کی موت کی صورت میں سامنے آیا۔

افغان جنگ امریکی کمپنیوں کے لیے منافع بخش کاروبار کیسے بنی؟ 

نواب اکبر بگٹی کے نظریات اور کام کرنے کے طریقے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ وہ ایک قوم پرست رہنما تھے۔ بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ان کا رہن سہن قبائلیوں جیسا ہی تھا اور وہ قبائلی روایات پر عمل کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ ان کی موت دوسری طرف کے نظریے کو ختم کرنے کا باعث بنی۔

لیکن آج بھی ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اکبر بگٹی کی موت سے بلوچ عوام کا معیار زندگی بہتر ہوا یا پہلے سے بھی بدتر ہو گیا؟