یومِ عاشور، افغانستان اور طالبان کی فتح
پاکستان میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ جدید افغانستان کا یومِ آزادی 19 اگست ہے جب 1919 میں اس وقت کی سپر پاور برطانیہ نے اپنی شکست
تسلیم کر کے افغانستان خالی کردیا۔
لیکن آج یہ محض اتفاق ہے کہ اسی 19 اگست کو یومِ عاشور بھی ہے اور ان سب کے پس منظر میں طالبان اپنی فتح بھی منا رہے ہیں۔ تو آئیے تاریخ کے ان واقعات کے اتفاقات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
![]() |
| طالبان جنگجو کابل کی طرف بڑھتے ہوئے |
کہا جاتا ہے کہ تاریخ دشمن کے سامنے جھک کر جان بچانے والوں
کو نہیں بلکہ دشمن کے سامنے ڈٹ کر مر جانے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ اور ان دونوں ہی
کرداروں کے لوگ آئے روز ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔
ٹیپو سلطان ہندوستان میں ایک چھوٹی سی ریاست کا سربراہ تھا
اور یہ وہ دور تھا جب انگریز پوری طاقت سے اپنی سلطنت پھیلا رہے تھے اور ٹیپو
سلطان یہ بات بڑی اچھی طرح جان گیا تھا کہ آج نہیں تو کل اسے انگریزوں سے لڑنا پڑے
گا اور وہ زیادہ عرصہ اپنی ریاست کو نہیں بچا سکے گا۔
یوں اس کے پاس دو راستے تھے۔ ایک تو انگریزوں سے سمجھوتا کر کے ان کی حاکمیت قبول کر لے اور پر سکون ہو کر اپنی ریاست میں ایک شاہانہ موت مرے۔ اور دوسرا راستہ تھا انگریزوں کے سامنے ڈٹ جائے اور عزت کی موت مر کر تاریخ میں امر ہو جائے۔ واضح رہے کہ اس دور میں ہندوستان کی اکثر چھوٹی ریاستوں نے انگریزوں کی حاکمیت مان کر جان بخشی کروا لی تھی۔
![]() |
| ٹیپو سلطان |
ٹیپو سلطان نے دوسرا راستہ چنا اور باوجود اس کے کہ اس کی
فوج کم تھی اور اوپر سے غدار بھی موجود تھے اور وہ یہ بات بھی جانتا تھا کہ زیادہ
عرصہ انگریزوں کا مقابلہ کرنا ممکن ہی نہیں لیکن اس سب کے باوجود اس نے ڈٹ کر
مقابلہ کیا اور عزت کی موت مر کر تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔
اور اس ضمن میں امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانیوں
کو کون بھول سکتا ہے۔ وہ اگر یزید کی حاکمیت مان لیتے تو ان کی جان بخشی ہو جاتی لیکن
دین اسلام میں خاندانی حکومت کا نظام جائز قرار پاتا اور آنیوالی کئی سلطنتوں کے
حکمران ان کا حوالہ دے کر خود کو الہی حکمران ثابت کر دیتے۔
لیکن امام حسین علیہ السلام نے اس امر کے خلاف ڈٹ جانے کا فیصلہ
کیا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ تعداد میں کم ہیں اور یزید نے ان کے قتل کا حکم
بھی دے رکھا ہے، خود کو اپنے خاندان سمیت قربانی کیلئے پیش کر دیا۔
یہ بات سچ ہے کہ امام حسین کی شہادت کے باوجود خاندانی نظام
حکومت ختم نہیں ہوا اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمے تک موجود رہا اور آج بھی بہت سے عرب ممالک میں خاندانی نظام حکومت قائم ہے لیکن ان کی قربانی اس بات کی عکاسی کرتی
ہے کہ جو چیز درست ہے وہ ایک شخص بھی کہے تو درست ہی رہتی ہے اور ایک کروڑ بھی کہے
تو اس کی صداقت میں فرق نہیں آتا اور دوسری طرف اگر ایک بات غلط ہے تو چاہے وقت کا
حکمران ہی کیوں نہ کہے وہ بات غلط ہی رہتی ہے اور اس کی حمایت کرنے والے اگر
کروڑوں بھی ہوں تو وہ بات غلط ہی رہتی ہے۔
یوں امام حسین علیہ السلام کی یہ قربانی آج تک ان لوگوں کے
لیے مشعل راہ ہے جو تعداد میں کم ہیں لیکن درست بات کی ڈٹ کر حمایت کرتے ہیں اور
عزت کی موت مر کر تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتے ہیں۔
تاریخ کے دوسری طرف موجود کرداروں کی بات کریں تو جدید دور
کی ایک ہی مثال کافی ہے اور وہ ہے جنرل اے۔کے نیازی کی، جنہوں نے 1971 میں بھارتی
فوج کے سامنے جھک کر جان بچالی مگر تاریخ میں ہمیشہ کیلئے مر گئے۔ یہ بات درست ہے
کہ اس دور کے حالات کے مطابق آخر کار مشرقی پاکستان نے الگ ہی ہونا تھا لیکن اگر
جنرل نیازی ڈٹ کر مقابلہ کرنے کو ترجیح دیتے اور مارے جاتے تو تاریخ آج بھی ان کو یاد
کرتی۔ ان کے کارناموں کو سکولوں میں پڑھایا جاتا لیکن افسوس کہ آج وہ تاریخ کے ایک
مردہ کردار ہیں۔
![]() |
| جنرل نیازی شکست کی دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے |
آج 19 اگست ہے اور طالبان ایک مرتبہ پھر برسرِ اقتدار آنیوالے
ہیں۔ آپ افغان قوم کے نظریات سے، طالبان کے عقائد سے، ان کے طریقہ کار سے اور ہر
اس چیز سے جو ان کے استعمال میں ہو، اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ
افغان قوم نے کبھی کسی غیر ملکی طاقت کا تسلط قبول نہیں کیا۔ انہوں نے جھک کر جان
بچانے کی بجائے ڈٹ کر مر جانے کو ترجیح دی۔ برطانیہ سے لیکر روس تک اور آج امریکہ کی عبرتناک شکست تک، افغان قوم کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ اور ان کی انہیں
قربانیوں کی بدولت افغانستان کو 'سلطنتوں کا قبرستان' کہا جاتا ہے۔
افغان قوم کو آزادی مبارک ہو کہ قدرت نے ڈٹ کر مر جانے
والوں کی سب سے بڑی قربانی کے دن یومِ عاشور کو ان کی آزادی کے دن سے جوڑ دیا۔




0 Comments