افغانستان اور مغربی ادب: ایک لازوال دوستی؟ 

افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور مزید یہ کہ ہمارا ہمسایہ بھی ہے یوں وہاں ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے واقع سے ہم براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کے مہمان ہیں۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے افغانستان آئے روز ہماری گفتگو کا حصہ بنتا ہے اور اردو ادب کیلئے ایک جدید موضوع بھی بن چکا ہے۔

طالبان جنگجو کابل میں افغان نیشنل آرمی کے خلاف برسرِ پیکار
 لیکن اگر اسی تناظر میں مغربی ممالک کو دیکھیں تو وہ نہ صرف فوجی اعتبار سے حملہ آور ہیں بلکہ اپنے ادب میں بھی افغانستان کو ایک خاص مقام دے رہے ہیں۔ 1887 میں شائع ہونے والے ناول 'اے اسٹڈی ان اسکارلیٹ' میں پہلی بار مشہور برطانوی جاسوس شرلوک ہومز کی ملاقات دوسری افغان جنگ سے واپس آنے والے ڈاکٹر جان واٹسن سے ہوتی ہے یوں اس سے جنم لینے والی شرلوک ہومز کی کہانیاں آج بھی لوگ پڑھتے ہیں۔

شرلوک ہومز کی کہانیوں کے دو کردار
تو آئیے ان پانچ مشہور ناولز کا جائزہ لیتے ہیں جو افغان پس منظر میں لکھے گئے۔ 

1۔ دی مین ہو وڈ بی کنگ:

The Man Who Would be King

1888 میں شائع ہونے والی یہ کہانی دو ایسے انگریز کرداروں کے گرد گھومتی ہے جو افغانستان میں واقع کافرستان نامی علاقے میں جا کر وہاں کا بادشاہ بننے کی ٹھان لیتے ہیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کیوں کہ مقامی افراد ان کی بندوقوں اور خفیہ معلومات کے ذرائع سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور انہیں 'خدا' تک تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیکن پھر ایک چھوٹی سی غلطی انہیں واپس زمین پر پہنچا دیتی ہے جس کے بعد نہ بادشاہت رہتی ہے اور نہ ہی خدائی۔ ان کی غلطی کو پہچاننے کیلئے ناول ضرور پڑھیں۔

ناول پر بننے والی فلم کا ایک منظر
 2۔ ٹو اسٹیپس فروم ہیون:

 Two Steps from Heaven

1997 میں شائع ہونے والا یہ ناول 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے گرد گھومتا ہے جس میں افغان مجاہدین اور روسی فوج کی جھڑپوں اور افغانستان میں تباہ کاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی روسی فوجیوں کی جانب سے مقامی افراد پر ہونے والے مظالم کا ذکر بھی اس ناول کا اہم موضوع ہے۔ اس کے علاقوں پس منظر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیسے اس جنگ نے روسی فوجیوں کے ذہنوں کو اثر انداز کیا ہے۔

ناول کا مرکزی کردار لیفٹیننٹ اولیگ شیراگن ہے جو روسی فوج کی ایک پلاٹون کا کمانڈر ہوتا ہے جو جنگ میں زخمی ہونے کے بعد کسی نہ کسی طرح واپس وطن آ جاتا ہے لیکن اس کا ملٹری کریئر ختم ہو جاتا ہے۔

ناول پر بننے والے گانے کا مرکزی کردار
 3۔ دی بریڈ ونر:

The Bread Winner

2000 میں شائع ہونے والے ناول کی کہانی ایک گیارہ سالہ لڑکی پروانہ کے گرد گھومتی ہے جسے طالبان کے زیرِ اثر افغانستان میں نوکری کے لیے ایک لڑکے کا روپ دھارنا پڑتا ہے تا کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے 'بریڈ ونر' بن سکے۔

اس ناول کے بعد اس سیریز میں تین اور سیکول بھی آئے۔ مصنفہ نے پروانہ کے کردار کو اصل سے قریب بنانے کے لیے ان افغان پناہ گزیروں سے بھی بات کی تھی جو اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان میں بس گئے تھے۔

ناول کا سرورق
4۔ دی کائٹ رنر:

The Kite Runner

گزشتہ صدی میں ایک افغانی شہری کے لیے افغانستان میں زندگی گزارنا کتنا مشکل تھا یہ جاننے کے لیے خالد حسینی کا سن 2003 میں شائع ہونے والا ناول 'دی کائٹ رنر' پڑھنا بے حد ضروری ہے۔

اس ناول کے ذریعے خالد حسینی نے افغانستان کی تاریخ کو بیان کیا ہے۔

ناول کی کہانی کابل کی وزیر خان ڈسٹرکٹ کے ایک لڑکے عامر کے گرد گھومتی ہے جو پیدا تو بادشاہت کے دور میں ہوا تھا لیکن اس نے اپنی زندگی پہلے روسی فوجیوں کے زیرِ سایہ گزاری تھی۔

ناول کا سرورق
5۔ اینڈ دی ماؤنٹینز ایکوڈ:

And the Mountains Echoed

سن 2013 میں شائع ہونے والا خالد حسینی کا یہ تیسرا ناول ایک ایسی افغان لڑکی 'پری' کے گرد گھومتا ہے جسے بچپن میں اس کا باپ ایک ایسے جوڑے کو بیچ دیتا ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہوتی۔

ناول میں 1952 سے شروع ہونے والی کہانی کیسے 50 برس بعد تک جاری رہتی ہے، کیسے ایک بچھڑا ہوا بھائی اپنی بہن سے واپس ملتا ہے، کیوں پری کے والد اسے بیچنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ ان سب کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

افغانستان کے پسِ منظر میں لکھا جانے والا یہ ناول آج بھی لوگوں میں مقبول ہے۔

ناول کا سرورق