نینو ٹیکنالوجی اور نیورو سائنس: ایک جدید انقلاب؟
نینو ٹیکنالوجی ایک جدید سائنسی اصطلاح ہے جسے آسانی سے
سمجھنا قدرے مشکل کام لگتا ہے کیونکہ یہ روایتی طور پر کیمسٹری اور فزکس سے ایک یکسر
مختلف علم ہے اور یہ خاص طور پر دماغ اور نیورو سائنس کے مطالعے میں استعمال کیا
جاتا ہے۔ لیکن اس کی اصل حقیقت کیا ہے اور یہ کام کیسے کرتا ہے؟ تو آئیے اس کی تہہ
میں موجود حقیقتوں کو سمجھنے کی ایک کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان سوالات کا جواب
انتہائی دلچسپ اور حیران کر دینے والا ہے۔
نینو ٹیکنالوجی کی اصطلاح اور تصور کو عام طور پر رچرڈ فین
مین سے منسوب کیا جاتا ہے جو کہ کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نوبل انعام
یافتہ طبیعیات دان ہیں۔ لیکن اس کی اصل اصطلاح کو 1974 میں ٹوکیو یونیورسٹی میں
متعارف کروایا گیا۔ اور پچھلے بیس سالوں کے دوران اس علم نے سائنسدانوں کے دماغ کے
مطالعے اور انٹرفیس پر اہم اثرات مرتب کیے ہیں اور ساتھ ہی اعصابی عارضوں کے علاج
کے لیے نئے طریقے بھی پیش کیے ہیں۔
نینو ٹیکنالوجی دراصل سائنس اور انجینئرنگ کا ایک ایسا مرکب
ہے جو فزیکل یا کیمیائی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے مالیکیول کی سطح پر سائنسی
آلات بنانے اور کنٹرول کرنے کے قابل ٹیکنالوجیز اور طریقوں پر مرکوز ہے۔ یاد رہے
کہ ایک نینو میٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہے۔
نینو ٹیکنالوجی کا مقصد اور سائنسی ہدف اس انتہائی چھوٹے لیول
پر موجود اشیاء اور آلات میں موجود فنکشنل پراپرٹیز کو معلوم کرنا ہے- وہ پراپرٹیز
جو جزوی مالیکیولر بلاکس میں موجود نہیں ہیں اور خود نینو ٹیکنالوجی بناتی ہیں۔ نینو
ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تعریف کیمسٹری یا فزکس کی
بجائے فنکشنل انجینئرڈ پراپرٹیز کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے۔
نینو ٹیکنالوجی کا استعمال:
طبی لحاظ سے اعصابی عارضوں کے لیے نینو ٹیکنالوجی کی ایپلی
کیشنز میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ تکلیف دہ اور تنزلیاتی امراض کے ساتھ ساتھ کینسر
کے علاج کے لیے نئے طریقوں میں مئوثر نتائج فراہم کر سکتی ہیں جن کا انتظام کرنا
طبی لحاظ سے مشکل ہوسکتا ہے۔ یوں دنیا بھر میں سائنس دان نینو ٹیکنالوجی کو امراض
کی تشخیص اور ممکنہ علاج کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
پچھلے کئی سالوں میں نینو ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ اور اس کا
استعمال اس قدر نمایاں رہا ہے کہ اب انسانی دماغ کے رازوں کو سمجھنے کیلئے جو بڑی
تحقیقی کوششیں ہو رہی ہیں اس میں نینو ٹیکنالوجی اور نینو انجینئرنگ کا کردار اور
شراکت کوئی نئی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک اہم ضمنی جزو بن چکی ہے. اور اسی وجہ
سے آئے روز انسانی دماغ کے متعلق نئے راز سامنے آتے رہتے ہیں۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے سے ایلون مسک نے ایک ایسی چپ تیار کی
جسے ایک جانور کے دماغ میں لگایا گیا اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔اور اس ضمن میں
دماغی ریسرچ تھرو ایڈوانسنگ انویٹو نیورو ٹیکنالوجیز، جو 2013 میں امریکہ میں شروع
کی گئی تھی جس کا مقصد یہ سمجھنا تھا ہے کہ سائنس دان دماغ کے ساتھ پیمائش، مطالعہ
اور انٹرفیس کیسے کرتے ہیں۔ یوں قدرت کے نت نئے شاہکار سامنے آرہے ہیں۔

0 Comments